11 اگست 2026 - 17:43
ٹرمپ کے دعوے پر ایران کا جواب: امریکا ایران کو ہرجانہ کیوں ادا کرے؟

تونس میں ایرانی سفارت خانے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ہرجانے سے متعلق بیان کے ردعمل میں گزشتہ برسوں کے دوران ایران کے خلاف امریکا کے 19 اقدامات اور کارروائیوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ہرجانہ ایران کو ادا کرنا چاہیے یا امریکا کو؟

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تونس میں ایرانی سفارت خانے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ شب ہرجانے سے متعلق بیان کے ردعمل میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تحریر جاری کی ہے، جس میں ایران کے خلاف امریکا کے گزشتہ برسوں کے 19 اقدامات اور کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

ایرانی سفارت خانے نے لکھا کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران ایران کے خلاف امریکا کی پالیسیوں، اقدامات اور جرائم کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر لاکھوں ایرانیوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ سفارت خانے نے ان میں سے درج ذیل 19 اقدامات کا ذکر کیا:

  • 1942 تا 1945: ایران پر امریکی قبضہ اور فوجی موجودگی۔

  • 1953: 19 اگست کی بغاوت اور ایران کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا۔

  • 1953 تا 1979: شاہی حکومت کی سیاسی، سکیورٹی اور فوجی حمایت۔

  • 1979: ایرانی اثاثے منجمد کرنا اور امریکی پابندیوں کا آغاز۔

  • 1980: ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنا۔

  • 1980: ایران میں امریکی فوجی کارروائی اور طبس آپریشن کی ناکامی۔

  • 1980 تا 1988: ایران پر صدام کی مسلط کردہ جنگ کے دوران امریکا کی جانب سے عراق کی حمایت۔

  • 1988: ایران ایئر کی پرواز 655 کو مار گرانا، جس کے نتیجے میں 290 افراد شہید ہوئے۔

  • 1995: ایران پر جامع اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنا۔

  • 1996: ایران اور لیبیا پابندیوں کے قانون (ILSA) کا نفاذ۔

  • 2006 تا 2012: ایران کے خلاف جوہری اور مالی پابندیوں میں اضافہ۔

  • 2012: ایران کے مرکزی بینک اور تیل کے شعبے پر سخت پابندیاں عائد کرنا۔

  • 2018: امریکا کا جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر دستبردار ہونا اور پابندیاں بحال کرنا۔

  • 2018 تا 2020: ایران کے خلاف ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی پر عمل درآمد۔

  • 2020: بغداد میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرنا۔

  • 2020 تا 2024: ایران کے خلاف اقتصادی اور تیل کی پابندیوں میں توسیع۔

  • 2025 تا 2026: ایران کے خلاف دباؤ اور فوجی حملوں میں اضافہ۔

  • 2025 تا 2026: ایران کے رہبر معظم کو شہید کرنا۔

  • 2025 تا 2026: میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملہ، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ جاں بحق ہوئے۔

ایرانی سفارت خانے نے مزید کہا کہ یہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف کیے گئے اقدامات اور کارروائیوں کی مکمل فہرست نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی متعدد اقدامات اور جرائم موجود ہیں۔

سفارت خانے نے سوال اٹھایا کہ ان اقدامات اور کارروائیوں کے بعد ہرجانہ کس کو ادا کرنا چاہیے؟ ایران کو، جس نے ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے، یا امریکا کو، جس نے بارہا ایران کو نقصان پہنچایا ہے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha